Posts

شعر: شب جو گزری خدا خدا کر کے

Image
  شب جو گزری خدا خدا کر کے دن بھی کٹ جاۓ تو سکوں آۓ شاعر: سیف نجفیؔ

غزل: دل پہ بھاری بھی سارے اپنے تھے

Image
 دل پہ بھاری بھی سارے اپنے تھے وہ مداری بھی سارے اپنے تھے کھیل کھیلا گیا تھا دھرتی سے اور کھلاڑی بھی سارے اپنے تھے لُوٹ کھایا جنہیں شریفوں نے وہ بھکاری بھی سارے اپنے تھے جن کو تسلیم تھا جمہوری بُت وہ پُجاری بھی سارے اپنے تھے جن کے ہاتھوں میں اقتدار دیا وہ موالی بھی سارے اپنے تھے جن کو تھا مان خدا پر نجفیؔ وہ حواری بھی سارے اپنے تھے شاعر: سیف نجفیؔ

شعر: یہ اداۓ دل فریبی سبھی جان لیں گے اک دن

Image
 یہ اداۓ دل فریبی سبھی جان لیں گے اک دن تیری بات کا بھروسہ مجھے تھا نہ ہے نہ ہوگا شاعر: سیف نجفیؔ

شعر: فکر خوابیدہ ہے دل کو جنونِ فنکاری

Image
 فکر خوابیدہ ہے دل کو جنونِ فنکاری کتنی دلکش ہے تیرے عشق کی یہ رہداری شاعر: سیف نجفیؔ

قطع: سیاسی طوائفیں

Image
 ایسے بِکتے ہیں ہوں جسطرح طوائف کوئی یوں پارلیمان کو بھی کوٹھا بنا رکھا ہے ایسے دلال بھی کرتے ہیں حکومت اس پر  دیس کو باپ کی جاگیر بنا رکھا ہے شاعر: سیف نجفیؔ  

غزل: کیا تجھے مجھ پہ اعتبار نہیں؟

 کیا تجھے مجھ پہ اعتبار نہیں؟  یعنی تجھکو مجھسے پیار نہیں یہ محبت جو میں نے ہاری ہے یہ میری جیت ہے ہار نہیں میری زندگی کا مسئلہ یہ ہے مجھے ہی اس پہ اختیار نہیں یہ جو مجھ پہ اسکا جادو ہے کیا اسکا کوئی بھی اتار نہیں؟   نجفیؔ اِس پُرآشوب راستے میں مجھکو لگتا ہے کوئی خار نہیں شاعر: سیف نجفیؔ

غزل: مجھ سے اب اُسکی اداسی نہیں دیکھی جاتی

 مجھ سے اب اُسکی اداسی نہیں دیکھی جاتی    آنکھوں میں اس کی سیاہی نہیں دیکھی جاتی  چھوڑ دو پانی میں اِس کو کہ جان بچ جاۓ مجھ سے یہ تڑپتی ماہی نہیں دیکھی جاتی چوم لوں گال میں اُس کے دل تو کرتا ہے اُس کے رخسار کی لالی نہیں دیکھی جاتی لڑکی میں باقی حیاء ہو یہ ضروری ہے فقط رنگ میں گوری یا کالی نہیں دیکھی جاتی تم کو تو ذات اور دولت سے کیا لینا نجفیؔ پیار میں بنگلہ یا گاڑی نہیں دیکھی جاتی شاعر: سیف نجفیؔ

نظم: آنکھیں

کمال آنکھیں سنبھال آنکھیں حسین اور بےمثال آنکھیں کہیں پہ روشن چراغ آنکھیں کہیں پہ رندوں کا جام آنکھیں کہیں برستی ہیں رحمتوں سی کہیں پہ قاتل شفاف آنکھیں کسی کے دل پہ ہیں وار کرتیں کسی کا جینا محال کرتیں کسی کو زندوں میں مارتی ہیں کسی کو مُردا شمار کرتیں یہ دیکھو تم اپنی لال آنکھیں کمال آنکھیں سنبھال آنکھیں حسین اور بےمثال آنکھیں شاعر: سیف نجفیؔ