غزل: مجھ سے اب اُسکی اداسی نہیں دیکھی جاتی
مجھ سے اب اُسکی اداسی نہیں دیکھی جاتی
آنکھوں میں اس کی سیاہی نہیں دیکھی جاتی
چھوڑ دو پانی میں اِس کو کہ جان بچ جاۓ
مجھ سے یہ تڑپتی ماہی نہیں دیکھی جاتی
چوم لوں گال میں اُس کے دل تو کرتا ہے
اُس کے رخسار کی لالی نہیں دیکھی جاتی
لڑکی میں باقی حیاء ہو یہ ضروری ہے فقط
رنگ میں گوری یا کالی نہیں دیکھی جاتی
تم کو تو ذات اور دولت سے کیا لینا نجفیؔ
پیار میں بنگلہ یا گاڑی نہیں دیکھی جاتی
شاعر: سیف نجفیؔ
Comments
Post a Comment