غزل: دل پہ بھاری بھی سارے اپنے تھے
دل پہ بھاری بھی سارے اپنے تھے
وہ مداری بھی سارے اپنے تھے
کھیل کھیلا گیا تھا دھرتی سے
اور کھلاڑی بھی سارے اپنے تھے
لُوٹ کھایا جنہیں شریفوں نے
وہ بھکاری بھی سارے اپنے تھے
جن کو تسلیم تھا جمہوری بُت
وہ پُجاری بھی سارے اپنے تھے
جن کے ہاتھوں میں اقتدار دیا
وہ موالی بھی سارے اپنے تھے
جن کو تھا مان خدا پر نجفیؔ
وہ حواری بھی سارے اپنے تھے
شاعر: سیف نجفیؔ
Comments
Post a Comment