نظم: آنکھیں
کمال آنکھیں سنبھال آنکھیںحسین اور بےمثال آنکھیںکہیں پہ روشن چراغ آنکھیںکہیں پہ رندوں کا جام آنکھیںکہیں برستی ہیں رحمتوں سیکہیں پہ قاتل شفاف آنکھیںکسی کے دل پہ ہیں وار کرتیںکسی کا جینا محال کرتیںکسی کو زندوں میں مارتی ہیںکسی کو مُردا شمار کرتیںیہ دیکھو تم اپنی لال آنکھیںکمال آنکھیں سنبھال آنکھیںحسین اور بےمثال آنکھیںشاعر: سیف نجفیؔ
Comments
Post a Comment